ممبئی،23مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) شیوسینا نے ہفتہ کو کہا کہ الیکشن میں کھڑے نہ ہونے کے باوجود لال کرشن اڈوانی بی جے پی کے سب سے قدآورلیڈر رہیں گے۔پارٹی نے گاندھی نگر سیٹ سے بی جے پی سربراہ امت شاہ کو امیدوار بنائے جانے کے دو دن بعد یہ تبصرہ کیا۔اس سیٹ کی نمائندگی اڈوانی کرتے رہے ہیں۔شیوسینا نے کہا کہ اڈوانی کی جگہ شاہ کے الیکشن لڑنے کے لیے سیاسی طور پر ایسا مانا جا رہا ہے کہ ہندوستانی سیاست کے قدآور لیڈر کو زبردستی سبکدوش کیا گیا ہے۔لال کرشن اڈوانی کو ہندوستانی سیاست کا قدآور لیڈرسمجھا جاتا ہے لیکن لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی کے امیدواروں کی فہرست میں ان کا نام نہیں ہے جو حیران کن نہیں ہے۔شیوسینا نے کہا کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بی جے پی کا اڈوانی دور ختم ہو گیا ہے۔ 91سالہ اڈوانی وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم رہے۔وہ گاندھی نگر سیٹ سے چھ بار جیتے۔اب شاہ اس سیٹ سے پہلی بار پارلیمانی انتخابات لڑ رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اڈوانی کو ریٹائرمنٹ کے لئے مجبور کیا گیا ہے۔شیوسینا نے کہاکہ اڈوانی بی جے پی کے بانی ارکان میں سے ایک تھے جنہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ مل کر پارٹی کا رتھ آگے بڑھایا۔لیکن آج مودی اور شاہ نے ان کی جگہ لے لی ہے۔پہلے سے ہی ایسا ماحول بنایا گیا کہ اس بار بزرگ لیڈروں کو کوئی ذمہ داری نہ ملے۔ پارٹی نے کہا کہ اڈوانی نے سیاست میں ’طویل اننگز ‘ کھیلی ہے اور وہ بی جے پی کے سب سے قدآورلیڈر رہیں گے۔ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی پارٹی نے کانگریس کو بھی نشانہ بنایا جس نے کہا ہے کہ گاندھی نگر سیٹ اڈوانی سے چھینی گئی۔شیوسینا نے کہاکہ کانگریس کو بزرگوں کی توہین کی بات نہیں کرنی چاہئے۔